ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / ہائی کورٹ کے جج نے توہینِ عدالت کے نوٹس کو غیر قانونی بتایا

ہائی کورٹ کے جج نے توہینِ عدالت کے نوٹس کو غیر قانونی بتایا

Sat, 11 Feb 2017 21:57:33    S.O. News Service

نئی دہلی11فروری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس سی ایس کرنن نے اپنے خلاف جاری توہین عدالت کے نوٹس کو غیر قانونی قراردیاہے۔سپریم کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو لکھے خط میں جسٹس کرنن نے کہاہے کہ ہائی کورٹ کے موجودہ جج کے خلاف اس طرح کی کارروائی کا کوئی اختیار نہیں ہے۔جسٹس کرنن کو جمعرات کو سپریم کورٹ کے7ججوں کی بنچ نے توہین عدالت کا نوٹس جاری کیاتھا۔انہیں اس معاملے میں 13فروری کو ذاتی طورپرپیش ہونے کوکہاگیاہے۔ساتھ ہی ان سے کوئی بھی عدالتی یا انتظامی کام نہ کرنے کو کہا گیا ہے۔مسلسل تنازعہ میں رہنے والے جسٹس کرنن کویہ نوٹس انہیں پی ایم کولکھے خط کی وجہ سے جاری کیاگیاہے۔اس خط میں انہوں نے20ججوں کو نام لے کر کرپٹ بتایاہے۔اس سے پہلے بھی وہ خود مدراس ہائی کورٹ سے اپنے ٹرانسفر کے حکم پر روک لگانے، ہائی کورٹ چیف جسٹس پر توہین کا مقدمہ چلانے کی دھمکی دینے جیسی کئی متنازعہ چیزوں کے لئے بحث میں رہ چکے ہیں۔سپریم کورٹ کے رجسٹرار جنرل کو لکھے خط میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے دلت طبقے سے آنے کامسئلہ اٹھایاہے۔انہوں نے لکھاہے کہ ایک دلت جج کے خلاف اس طرح کانوٹس ایس سی /ایس ٹی ایکٹ کے خلاف ہے۔اعلیٰ ذات کے جج دلت جج سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔جسٹس کرنن نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جے ایس کھیہرپربھی اپنے خلاف تعصب کا الزام لگایاہے۔ان کے مطابق میں نے موجودہ سی جی آئی کے خلاف گزشتہ سال ایک حکم دیا تھا۔لہٰذا وہ میرے تئیں تعصب رکھتے ہیں۔اس معاملے کو ان کے ریٹائر ہونے کے بعد سنا جانا چاہئے۔انہوں نے مزید لکھا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری طور پر خیال ضروری ہے تو پھر اسے پارلیمنٹ کے پاس بھیج دیا جائے۔وہاں میں یہ ثابت کر دوں گا کہ پی ایم کولکھے خط کی تمام باتیں درست ہیں۔
 


Share: